جمعہ 12 جون 2026 - 18:20
ایران نے دشمنوں کے مقابلے کے لیے نئی حکمتِ عملی اختیار کر لی، عوام ہر مرحلے پر ساتھ ہیں: آیت اللہ اعرافی

حوزہ/ قم المقدسہ میں نماز جمعہ کے خطبوں میں سربراہ حوزہ علمیہ ایران آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا ہے کہ حالیہ حالات کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے دشمنوں، خصوصاً امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں نئی حکمتِ عملی اختیار کی ہے، جس کے تحت ملک ایران اپنی دفاعی، سیاسی اور عوامی طاقت کے ساتھ میدان میں موجود رہے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں نماز جمعہ کے خطبوں میں سربراہ حوزہ علمیہ ایران آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا ہے کہ حالیہ حالات کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے دشمنوں، خصوصاً امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں نئی حکمتِ عملی اختیار کی ہے، جس کے تحت ملک ایران اپنی دفاعی، سیاسی اور عوامی طاقت کے ساتھ میدان میں موجود رہے گا۔

مصلیٰ قدس قم میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ اسلامی انقلاب اپنی ابتدا سے ہی استکباری طاقتوں کے خلاف برسرِ پیکار رہا ہے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اس کی پالیسیوں اور حکمتِ عملیوں میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پیش آنے والے واقعات کے بعد ایران ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے جس میں دشمنوں کے مقابلے کے لیے مختلف سطحوں پر نئی پالیسیاں اپنائی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلی اہم تبدیلی امریکہ کے ساتھ براہِ راست مقابلے کی پالیسی ہے۔ ان کے بقول ماضی میں زیادہ تر مقابلہ امریکہ کے اتحادیوں اور نمائندہ قوتوں کے ذریعے ہوتا تھا، لیکن اب ایران نے براہِ راست رویّہ اختیار کیا ہے جس سے امریکی طاقت کا خوف ٹوٹ گیا ہے۔

آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ دوسری پالیسی خطے کے وسیع جغرافیے کو مدنظر رکھتے ہوئے دفاعی حکمتِ عملی کو وسعت دینا ہے۔ ان کے مطابق ایران اب صرف ایک محدود محاذ تک خود کو مقید نہیں سمجھتا بلکہ جہاں بھی اس کے مفادات اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگا وہاں مناسب ردِعمل دیا جائے گا۔

انہوں نے بعض خلیجی ممالک کے حوالے سے بھی ایران کے رویّے میں تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ممالک جو دشمن قوتوں کے ساتھ تعاون کریں گے، انہیں اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ دوستانہ رویّہ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ایران مثبت تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

خطیب نماز جمعہ نے کہا کہ محورِ مقاومت کے مختلف حلقوں کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا بھی نئی پالیسیوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے پاس دشمنوں کے مقابلے کے لیے مختلف سیاسی، اقتصادی اور دفاعی امکانات موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے دشمن ممالک کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے مکمل بداعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ دشمنوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے قومی فیصلے مکمل احتیاط کے ساتھ کیے جائیں گے۔

آیت اللہ اعرافی نے عوامی شرکت کو نئی حکمتِ عملی کا سب سے اہم عنصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ رمضان سے محرم تک ملک بھر میں عوام کی بھرپور موجودگی نے قومی یکجہتی اور استقامت کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام، مسلح افواج اور محورِ مقاومت جب تک ضرورت ہوگی میدان میں موجود رہیں گے۔

انہوں نے حکومتی اداروں پر زور دیا کہ وہ ملک کے اقتصادی اور معاشی مسائل کے حل، قومی استحکام اور عوامی فلاح پر توجہ دیں، جبکہ علماء، دانشوروں، تاجروں اور مختلف سماجی طبقات سے بھی قومی وحدت کے فروغ میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں آیت اللہ اعرافی نے ماہِ محرم اور واقعۂ عاشورا کو عزت، استقامت اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کی سیرت آج بھی ملتِ اسلامیہ اور آزادی پسند اقوام کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عاشورا کا پیغام عزتِ نفس، حق پر استقامت اور باطل کے سامنے نہ جھکنے کا درس دیتا ہے، جس کی آج کے دور میں پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha